ہجر کی سرزمینوں سے چلتی ہوا، دل کے پیڑوں کا نقصان کرتی ہوئی
چاند جیسی وہ پیشانیاں بجھ گئیں، ایک آواز اعلان کرتی ہوئی
گھی لگی روٹیاں بوڑھے لرزیدہ ہاتھوں سے پکتی رہیں اور مہکتی رہیی
رنگ تصویر میں سانس لینے لگے، دھوپ کھیتوں کو گنجان کرتی ہوئی
ماں کے ہونٹوں سے خوشبو کی آیت سنی اور سانسوں نے اسکی تلاوت بھی کی
سر پہ رکھے ہوۓ دھوپ کی گٹھڑیاں،حسرتوں کو لیے خوبرو لڑکیاں
گھر پلٹنے لگیں، اور اداسی کی لو، سب پرندے پریشان کرتی ہوئی
اور دن ڈھل گیا دور بستی کے کچے مکانوں میں پھر سے دیے جل اٹھے
شور تھمنے لگا اور گاؤں میں پھر شام گلیوں کو ویران کرتی ہوئی
خشک سینوں کے زینے اترتے ہوئے من کے کچے پیالوں کو بھرتے ہوئے
کھڑکیوں میں کئی خواب دھرتے ہوئے، رات وحشت کا سامان کرتی ہوئی
نیند معصوم آنکھوں میں آنے لگی، خواب کی فاختہ گنگنانے لگی
لوریوں کی صدا جاں سے ہوتی ہوئی، تنگ سانسوں کو آسان کرتی ہوئی
حماد نیازی
No comments:
Post a Comment