Sunday, 6 November 2016

چلو کچھ دیر ہنستے ہیں

چلو کچھ دیر ہنستے ہیں
محبت پر عنایت پر
کہ بے بنیاد ہیں باتیں
سبهی رشتے، سبهی ناتے
ضرورت کی ہیں ایجادیں
کہیں کوئی نہیں مرتا

کسی کے واسطے جاناں
کہ سب ہے پھیر لفظوں کا
ہے سارا کھیل حرفوں کا
نہ ہی محبوب کوئی بھی
جیسے ہم زندگی کہتے
جیسے ہم شاعری کہتے
غزل کا قافیہ تها جو
نظم کا عنوان تها جو
وہ لہجہ جب بدلتا ہے
قیامت خیز لگتا ہے
وقت کے آ گے چلتا تها
جو سایہ بن کے رہتا تھا
جدا اب اس کے رستے ہیں
چلو کچھ دیر ہنستے ہیں
چلو کچھ دیر ہنستے ہیں

پروین شاکر

No comments:

Post a Comment