Sunday, 2 May 2021

میری بانہوں میں بس اک بار سمٹ کر جائے

 میری بانہوں میں بس اک بار سمٹ کر جائے

اس کو جانا ہے تو پھر مجھ سے لپٹ کر جائے

اس کا مطلب تو یہی ہے کہ جدا ہونا ہے

جب کوئی جاتے ہوئے جام اُلٹ کر جائے

میرے چہرے کو بھی تفصیل سے پڑھ لے کوئی

جلدی جلدی نہ ورق ایسے پلٹ کر جائے

اس سے کہنا میرے سائے میں نہ آ کر بیٹھے

ایک گرتی ہوئی دیوار سے ہٹ کر جائے

عشق دیمک کی طرح ہے اسے تتلی نہ سمجھ

ایک لمحے میں یہ انسان کو چٹ کر جائے


یاسین ضمیر

No comments:

Post a Comment