زندگانی کا فلسفہ کیا ہے
ایک پانی کا بلبلا کیا ہے
ساتھ رہتی ہے روح جسموں کے
سانس لینے کا سلسلہ کیا ہے
چھوڑ جاتے ہیں چھوڑنے والے
کیسا پچھتاوا ہے، گلہ کیا ہے
جی کے مرنا ہے، مرکے جینا ہے
جینے مرنے کا معاملہ کیا ہے
خود ہی پہنچوں گا اپنی منزل پر
کارواں کیا ہے قافلہ کیا ہے
بے وفا سے میں پیار تو کرلوں
لیکن انجام کیا، صلہ کیا ہے
تیرا جانا تو اک قیامت ہے
حادثہ کیا ہے، سانحہ کیا ہے
تیری راہیں جدا جدا دیکھیں
تجھ سے ملنے کا راستہ کیا ہے
بھول سکتا نہیں اُسے بزمی
بھول جانے کا حوصلہ کیا ہے
شبیر بزمی
No comments:
Post a Comment