Friday, 8 January 2021

پنکھ گرنے کی بھی آواز سے ڈرنے والی

 پنکھ گرنے کی بھی آواز سے ڈرنے والی

اس کے ہنسنے سے لگے برف ہے پڑنے والی

سرد راتوں میں کسی نرم سے لہجے میں کہی

وہ کوئی بات ہے اور بات بھی سننے والی

سرخ پوشاک ہے ہمراز فقط ایک اس کی

نظم گلزار ہے سب پر نہیں کھلنے والی

بلب روشن ترے غرفے کا رہے گا جب تک

تب تلک اپنی طبیعت نہیں بچنے والی

میں کہ نقاد کا اک ترک شدہ مصرعہ ہوں

وہ غزل کی وحی، غالب پہ اترنے والی

نیم ہوشی میں وہ بانہوں کو پھیلائے عالی

لے جو انگڑائی تو لاگے ہے بکھرنے والی


علی پیر عالی

No comments:

Post a Comment