پنکھ گرنے کی بھی آواز سے ڈرنے والی
اس کے ہنسنے سے لگے برف ہے پڑنے والی
سرد راتوں میں کسی نرم سے لہجے میں کہی
وہ کوئی بات ہے اور بات بھی سننے والی
سرخ پوشاک ہے ہمراز فقط ایک اس کی
نظم گلزار ہے سب پر نہیں کھلنے والی
بلب روشن ترے غرفے کا رہے گا جب تک
تب تلک اپنی طبیعت نہیں بچنے والی
میں کہ نقاد کا اک ترک شدہ مصرعہ ہوں
وہ غزل کی وحی، غالب پہ اترنے والی
نیم ہوشی میں وہ بانہوں کو پھیلائے عالی
لے جو انگڑائی تو لاگے ہے بکھرنے والی
علی پیر عالی
No comments:
Post a Comment