Friday, 8 January 2021

ہم جو اک پل کو کسی غیر کے شانے لگ جائیں

 ہم جو اک پل کو کسی غیر کے شانے لگ جائیں

تو میری جان تیرے ہوش ٹھکانے لگ جائیں

ہم تِرے چاہنے والے ہیں، تجھے یاد رہے

جانے کب کوچے میں ہم خاک اُڑانے لگ جائیں

اس سے کہنا کہ نگاہیں بھی نہیں اٹھ سکتیں

ہم جو اپنے کبھی احسان گنانے لگ جائیں

ہم طرف دارِ محبت ہیں مگر اتنے نہیں

ایسے ویسے بھی ہمیں آنکھ دکھانے لگ جائیں

شمس بھی ڈوب گیا شام ڈھلی رات ھوئی

کہہ دو یادوں سے کہ اب ناچنے گانے لگ جائیں

دل تو ٹوٹا ہے ہمارا بھی محبت میں مگر

آپ کے جیسے کہ ہم شور مچانے لگ جائیں


عادل رشید

No comments:

Post a Comment