ہم جو اک پل کو کسی غیر کے شانے لگ جائیں
تو میری جان تیرے ہوش ٹھکانے لگ جائیں
ہم تِرے چاہنے والے ہیں، تجھے یاد رہے
جانے کب کوچے میں ہم خاک اُڑانے لگ جائیں
اس سے کہنا کہ نگاہیں بھی نہیں اٹھ سکتیں
ہم جو اپنے کبھی احسان گنانے لگ جائیں
ہم طرف دارِ محبت ہیں مگر اتنے نہیں
ایسے ویسے بھی ہمیں آنکھ دکھانے لگ جائیں
شمس بھی ڈوب گیا شام ڈھلی رات ھوئی
کہہ دو یادوں سے کہ اب ناچنے گانے لگ جائیں
دل تو ٹوٹا ہے ہمارا بھی محبت میں مگر
آپ کے جیسے کہ ہم شور مچانے لگ جائیں
عادل رشید
No comments:
Post a Comment