Friday, 11 December 2020

دیوانے مکمل خط نہیں لکھتے

اسے میں نے ہی لکھا تھا


اسے میں نے ہی لکھا تھا

کہ لہجے برف ہو جائیں

تو پھر پگھلا نہیں کرتے

پرندے ڈر کے اڑ جائیں

تو پھر لوٹا نہیں کرتے


اسے میں نے ہی لکھا تھا

یقین اٹھ جائے تو شاید

کبھی واپس نہیں آتا

ہواؤں کا کوئی طوفان

کبھی بارش نہیں لاتا


اسے میں نے ہی لکھا تھا

کہ شیشہ ٹوٹ جائے تو

کبھی پھر جڑ نہیں پاتا

جو رستے سے بھٹک جائے

وہ واپس مڑ نہیں پاتا


اسے کہنا وہ بے معنی ادھورا خط

اسے میں نے ہی لکھا تھا

اسے کہنا کہ دیوانے

مکمل خط نہیں لکھتے


اختر ملک

No comments:

Post a Comment