Friday, 11 December 2020

اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں

 اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں 

مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں 

اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں 

اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں 

چار دن رہ گئے میلے میں مگر اب کے بھی 

اس نے آنے کے لیے خط میں لکھا کچھ بھی نہیں 

کل بچھڑنا ہے تو پھر عہد وفا سوچ کے باندھ 

ابھی آغاز محبت ہے،۔ گیا کچھ بھی نہیں 

میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے 

تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلا کچھ بھی نہیں 

اے شمار آنکھیں اسی طرح بچھائے رکھنا 

جانے کس وقت وہ آ جائے پتا کچھ بھی نہیں 


اختر شمار

No comments:

Post a Comment