چیخ سکتے ہیں بغاوت تو نہیں کر سکتے
اپنی مٹی پہ سیاست تو نہیں کر سکتے
کس کے کہنے پہ مجھے مار رہے ہیں پتھر
خود سے بچے یہ شرارت تو نہیں کر سکتے
کھانا تھوڑی ہے جہاں بھوک مٹی چھوڑ دیا
عشق ہے، حسب ضرورت تو نہیں کر سکتے
اب کسی جنگ میں مر جائیں یہی بہتر ہے
ہم سے ڈرپوک محبت تو نہیں کر سکتے
علی ارتضیٰ
No comments:
Post a Comment