کس قدر کھٹن ہیں یہ راستے محبت کے
ختم کیوں نہیں ہوتے فاصلے محبت کے
ہر طرف وفاؤں کے عکس جھلملاتے ہیں
ٹوٹ ہی نہ جائیں یہ آئینے محبت کے
ہم نے آزمائش کی ہر گھڑی کو تھاما ہے
ہم پہ جان دیتے ہیں ضابطے محبت کے
سرخرو تہی دامان یاں سے ہو کے لوٹے تھے
لٹنے آ گئے پھر سے قافلے محبت کے
ہر مکانِ ہستی جب پُر سکون رہتا ہے
جب تلک نہیں آتے زلزلے محبت کے
بچ کے اس مصیبت سے خال ہی نکلتا ہے
یوں تو روز ہوتے ہیں حادثے محبت کے
تم نے کب وفاؤں کی لذتوں کو جھیلا ہے
تم نے کب اٹھائے ہیں فائدے محبت کے
عشق کی عدالت میں پیشیاں نہیں لگتیں
ایک بار ہوتے ہیں فیصلے محبت کے
آنسوؤں کی بارش میں ہونٹ کپکپاتے ہیں
اس طرح رُلاتے ہیں قہقہے محبت کے
ہم پہ یاد کے موسم نے ستم اتارے ہیں
ہم سے چھن گئے سارے حافظے محبت کے
حسن والے دیکھو تم یا بلال زر والے
اِن سے تم بڑھاؤ نہ رابطے محبت کے
بلال اسلم
No comments:
Post a Comment