Saturday, 20 November 2021

کس قدر کھٹن ہیں یہ راستے محبت کے

 کس قدر کھٹن ہیں یہ راستے محبت کے

ختم کیوں نہیں ہوتے فاصلے محبت کے

ہر طرف وفاؤں کے عکس جھلملاتے ہیں

ٹوٹ ہی نہ جائیں یہ آئینے محبت کے

ہم نے آزمائش کی ہر گھڑی کو تھاما ہے

ہم پہ جان دیتے ہیں ضابطے محبت کے

سرخرو تہی دامان یاں سے ہو کے لوٹے تھے

لٹنے آ گئے پھر سے قافلے محبت کے

ہر مکانِ ہستی جب پُر سکون رہتا ہے

جب تلک نہیں آتے زلزلے محبت کے

بچ کے اس مصیبت سے خال ہی نکلتا ہے

یوں تو روز ہوتے ہیں حادثے محبت کے

تم نے کب وفاؤں کی لذتوں کو جھیلا ہے

تم نے کب اٹھائے ہیں فائدے محبت کے

عشق کی عدالت میں پیشیاں نہیں لگتیں

ایک بار ہوتے ہیں فیصلے محبت کے

آنسوؤں کی بارش میں ہونٹ کپکپاتے ہیں

اس طرح رُلاتے ہیں قہقہے محبت کے

ہم پہ یاد کے موسم نے ستم اتارے ہیں

ہم سے چھن گئے سارے حافظے محبت کے

حسن والے دیکھو تم یا بلال زر والے

اِن سے تم بڑھاؤ نہ رابطے محبت کے


بلال اسلم

No comments:

Post a Comment