درد ہے، دل ہے، جدائی ہے، تمنائیں ہیں
وصل کا ایک جہاں، ہجر کی دنیائیں ہیں
آہِ بلبل کے بنا، زارئ مجنوں کے بغیر
گلشنِ دل میں نِرے گل، نِری لیلائیں ہیں
اک مصور کا یہ حسرت بھرا شہکار ملا
بجھتی شمعیں ہیں تو مرجھاتی ہوئی مائیں ہیں
ایک تو ہاتھ میں دجال ہے اور اوپر سے
بے حجابانہ جہاں دیکھو حسینائیں ہیں
انقلاب آئے بھی گلشن میں تو کیسے آئے
خوابِ شاہین میں خاموش سی مینائیں ہیں
ہاتھ آ جاؤں تو کر دیتے ہیں بے دست و پا
کیسے بازو ہیں جو دائیں ہیں نہ ہی بائیں ہیں
سرسری! یہ مِرے اشعار، یہ میری غزلیں
چند بکھری ہوئی، ٹوٹی ہوئی مالائیں ہیں
اسامہ سرسری
No comments:
Post a Comment