غم کے دامن میں خوشی اچھی لگی
تھا اندھیرا، روشنی اچھی لگی
موت کو دیکھا جو اپنے سامنے
آج مجھ کو زندگی اچھی لگی
دوستوں سے اس قدر کھائے فریب
دُشمنوں کی دُشمنی اچھی لگی
بن گیا میرا تماشہ گر تو کیا
ان کے ہونٹوں پر ہنسی اچھی لگی
کہہ دیا شعروں میں روبی حالِ دل
وہ یہ بولے؛ شاعری اچھی لگی
روبینہ ممتاز روبی
No comments:
Post a Comment