Saturday, 20 November 2021

عشق کے نام پہ کس کس نے ياں فساد کيا

 عشق کے نام پہ کس کس نے ياں فساد کيا

میں نے کُھل کُھل کے تِرے واسطے جہاد کيا

ہم نشيں بعد تيرے کيسے سنبھالا دل کو

جانے کس کرب میں رَس بَس کے يہ آباد کيا

جيسے جينے کى دعا مرضِ وبا مانگتے ہیں

میں نے اس حال میں اے جاں تجھے فرياد کيا

کوئى چُھپ چُھپ کے چلے آتے، زخم دے جاتے

میں نے ہنس ہنس کے ہر اک گھاؤ کو ناشاد کيا

طے تو يہ تھا کہ محبت میں کمى کوئى نہ ہو

میں نے تو خود کو اِسى آس میں برباد کيا

سانس ليتے بھى تو ڈر ڈر کے ليا کرتے تھے

تُو نے اس قيد سے اب روح کو آزاد کيا

جب بھى تحفے میں کسى نے جو مجھے پھول ديا

میں نے تجھ کو تيرے آنگن کو بہت ياد کيا

دردِ دل حد سے گزرنے جو لگى تو ہم نے

اپنے سائے سے لپٹ کر تجھے فرياد کيا

مدتوں بعد تيرى ايک نشانى پا کر

آنکھ پُر نم ہوئى، دل مائلِ فرياد کيا

حالتِ سوزشِ انديش زبوں میں صابر

طائرِ صبر کو ہنستے ہوئے آزاد کيا


صابر فرحان بلتستانی

No comments:

Post a Comment