Saturday, 20 November 2021

کہیں اداس درختوں پہ جب بہار آئے

 کہیں اداس درختوں پہ جب بہار آئے

گلابِ وصل کے کھلنے کا اعتبار آئے

کسی کا ہجر کسی کی کسک کسی کا ملال

کوئی سبو میں. ملائے تو پھر خمار آئے

عجیب ہوتے ہیں یہ سلسلے محبت کے

بچھڑنے والے بچھڑ کر بھی بار بار آئے

عجب طرح کی مِری آنکھ کی بناوٹ تھی

وہ ایک خواب جو ٹوٹا تو پھر ہزار آئے

کسی کا عکس بنے چھاؤں میں ستاروں کی

فلک کی آنکھ کھلے چاند کو قرار آئے

وہ ایک خواب کی دستک پہ چونکتے ہوئے ہم

کسی خیال کی رو میں تجھے پکار آئے

گزر رہا تھا کسی اجنبی سڑک سے عزیز

سلام پہلی محبت کے بے شمار آئے


وقاص عزیز

No comments:

Post a Comment