Thursday, 10 March 2022

حقارت سے نہ دیکھو دل کو جام جم بھی کہتے ہیں

 حقارت سے نہ دیکھو دل کو جامِ جم بھی کہتے ہیں

اسی خاکِ تپاں کو فاتحِ عالم بھی کہتے ہیں

یہ دل کی داستانِ مضطرب ہے جس کو دنیا میں

کہیں آنسو، کہیں موتی، کہیں شبنم بھی کہتے ہیں

کبھی کے اک تبسم کو سجا رکھا ہے ہونٹوں پر

بہت سے تو اسے پروردۂ ماتم بھی کہتے ہیں

مسرت کے پجاری تجھ کو یہ عشرت مبارک ہو

یہ دنیا ہے، مسرت کو یہاں پر غم بھی کہتے ہیں

زمانہ کہہ رہا ہے تم نے گلشن ہی مٹا ڈالا

مروّت برطرف، لو آج ایسا ہم بھی کہتے ہیں


سحاب قزلباش

No comments:

Post a Comment