Wednesday, 17 November 2021

اس طرح رسم محبت کی ادا ہوتی ہے

 اس طرح رسم محبت کی ادا ہوتی ہے

آج سے تیری مِری راہ جدا ہوتی ہے

میں کسی اور ہی دنیا میں پہنچ جاتا ہوں

جب بھی کانوں میں اذانوں کی صدا ہوتی ہے

بد دعا کوئی اگر دے تو بُرا مت مانو

بد دعا بھی تو مِری جان! دعا ہوتی ہے

نیند کے ساتھ ہی اک باب نیا کھلتا ہے

خواب کے ٹوٹنے جڑنے کی کتھا ہوتی ہے

جسم کی وادیوں میں رہ کے یہ جانا میں نے

جسم کی پیاس تو گھنگھور گھٹا ہوتی ہے

میں تجھے چھوڑ کے ہرگز نہیں جانے والا

اے مری جان! تُو بے وجہ خفا ہوتی ہے

دو جواں دل جو محبت میں کبھی پڑ جائیں

کیا یہ سچ مچ میں خدا کی ہی خطا ہوتی ہے


تری پراری

No comments:

Post a Comment