جوہی چنبیلی رات کی رانی چمپا ہے اور بیلا ہے
آؤ چلو تو چل کر دیکھیں کیوں پھر چاند اکیلا ہے
رم جھم رم جھم اس ساون میں آنکھوں سے برسات ہوئی
یاد بھی اس کی آئے نہ دل میں غم کا کیسا میلہ ہے
سادھو بنا بیٹھا ہے دیکھو راج نیت کی کرسی پر
پوچھو اس کے سچے دل سے کون سا کھیل نہ کھیلا ہے
بھینی بھینی خوشبوئیں ہیں نھی ننھی آشائیں
چار دنوں کی دنیا میں دکھ سکھ کا بس اک ریلا ہے
کچھ اٹھلاتا وہ کچھ بل کھاتا چاند گگن پر آیا ہے
ایسا لگتا ہے مجھ کو یہ چاند بھی نیا نویلا ہے
ملا نہ مجھ کو چین کبھی بھی دیکھ لیا ہے جی کے نگار
آؤ چلو اب مر کے دیکھیں جینے میں تو جھمیلا ہے
نگار سلطانہ
No comments:
Post a Comment