Wednesday, 17 November 2021

جوہی چنبیلی رات کی رانی چمپا ہے اور بیلا ہے

 جوہی چنبیلی رات کی رانی چمپا ہے اور بیلا ہے

آؤ چلو تو چل کر دیکھیں کیوں پھر چاند اکیلا ہے

رم جھم رم جھم اس ساون میں آنکھوں سے برسات ہوئی

یاد بھی اس کی آئے نہ دل میں غم کا کیسا میلہ ہے

سادھو بنا بیٹھا ہے دیکھو راج نیت کی کرسی پر

پوچھو اس کے سچے دل سے کون سا کھیل نہ کھیلا ہے

بھینی بھینی خوشبوئیں ہیں نھی ننھی آشائیں

چار دنوں کی دنیا میں دکھ سکھ کا بس اک ریلا ہے

کچھ اٹھلاتا وہ کچھ بل کھاتا چاند گگن پر آیا ہے

ایسا لگتا ہے مجھ کو یہ چاند بھی نیا نویلا ہے

ملا نہ مجھ کو چین کبھی بھی دیکھ لیا ہے جی کے نگار

آؤ چلو اب مر کے دیکھیں جینے میں تو جھمیلا ہے


نگار سلطانہ

No comments:

Post a Comment