Monday, 14 March 2022

یوں چار دن کی بہاروں کے قرض اتارے گئے

یوں چار دن کی بہاروں کے قرض اُتارے گئے

تمہارے بعد کے موسم فقط گُزارے گئے

ذرا سی دور تو سیلاب کے سہارے گئے

بھنور میں اُلجھے تو پھر ہاتھ پاؤں مارے گئے

صدا کا دیر تلک گُونجنا بہت بھایا

پھر ایک نام بیاباں میں ہم پُکارے گئے

چُھپا چُھپا کے جو راتوں نے خواب رکھے تھے

وہ سارے دن کے اُجالوں کے ہاتھ مارے گئے

کچھ ایک چہرے مِری چشمِ تر میں تیرتے ہیں

کچھ اک سفینے ابھی تک نہ پار اُتارے گئے


منوج اظہر

No comments:

Post a Comment