Monday, 14 March 2022

اک اسی کا سوال تھے ہم بھی

 اک اسی کا سوال تھے ہم بھی

کس قدر با کمال تھے ہم بھی

ہم اسیرانِ غم کے چہرے پڑھ

غم کی زندہ مثال تھے ہم بھی

سانس لینا بھی مسئلہ تھا ہمیں

وہ بھی غم سے نڈھال تھے ہم بھی

ایک دشمن کی موت پر صاحب

جانے کیوں پر ملال تھے ہم بھی

اس طرح سے ہے لوٹا یاروں نے

گو غنیمت کا مال تھے ہم بھی

وہ بھی تھے بوجھ سر کا اے امجد

اور جاں کا وبال تھے ہم بھی


حسین امجد

No comments:

Post a Comment