شب کوری
دھوپ بیری کے پتوں سے گزر کر
دھان کی فصلوں سے ہوتی ہوئی
زیر زمین جا چھپتی ہے تو
میری نظریں کبھی کھڑکی کبھی بالکنی سے
لپٹی رہتی ہیں
ایک بھوری آنکھوں والا جیسے ہی گلی میں پہلا قدم رکھتا ہے
میرے جامنی ہونٹ گلابی ہونے لگتے ہیں
اور اس کے تیس قدم پورے ہونے سے پہلے
مجھے پچھلے بارہ گھنٹوں سے ہونے والی
استھما کی شکایت ختم ہو جاتی ہے
پر جیسے ہی
وہ اکتیسواں قدم اگلی گلی میں رکھتا ہے
عین اسی وقت
مجھ کو شب کوری لاحق ہو جاتی ہے
زویا ممتاز
No comments:
Post a Comment