Monday, 14 March 2022

مجھ کو شب کوری لاحق ہو جاتی ہے

 شب کوری


دھوپ بیری کے پتوں سے گزر کر

دھان کی فصلوں سے ہوتی ہوئی

زیر زمین جا چھپتی ہے تو

میری نظریں کبھی کھڑکی کبھی بالکنی سے

لپٹی رہتی ہیں

ایک بھوری آنکھوں والا جیسے ہی گلی میں پہلا قدم رکھتا ہے

میرے جامنی ہونٹ گلابی ہونے لگتے ہیں

اور اس کے تیس قدم پورے ہونے سے پہلے

مجھے پچھلے بارہ گھنٹوں سے ہونے والی

استھما کی شکایت ختم ہو جاتی ہے

پر جیسے ہی

وہ اکتیسواں قدم اگلی گلی میں رکھتا ہے

عین اسی وقت

مجھ کو شب کوری لاحق ہو جاتی ہے


زویا ممتاز

No comments:

Post a Comment