دیکھ لیتی ہیں تمہیں جب بھی ہماری آنکھیں
لوگ کہتے ہیں نہیں لگتیں تمہاری آنکھیں
جن میں ہر شام محبت کے دیے جلتے ہیں
وہ کوئی اور نہیں وہ ہیں ہماری آنکھیں
صبحِ پر نور سا دکھتا ہے تمہارا چہرہ
چڑھتے سورج کی سی لگتی ہیں تمہاری آنکھیں
پہلے تصویر بناتا ہے وہ میرے دل کی
اور پھر اپنی بناتا ہے شکاری آنکھیں
کتنی نمناک سی رہتی ہیں مگر دکھتی نہیں
یہ بظاہر جو نظر آتی ہیں پیاری آنکھیں
جانے والے تجھے معلوم نہیں ہے شاید
مر چکی ہیں وہ ترے ہجر کی ماری آنکھیں
ایک چہرے کو دکھانے کی غرض سے طارق
اک مصور نے بنائی ہیں یہ ساری آنکھیں
طارق ملک
No comments:
Post a Comment