کب تلک دیکھے گی یہ دنیا سرابِ زندگی
پی کے کس نے قے نہیں کی ہے شرابِ زندگی
ایک اک کلمہ بھرا ہے تلخیوں سے لاکھ لاکھ
میں نے یہ دیکھا پڑھی ہے جب کتابِ زندگی
زندگی ہے موت لیکن موت آئے گی نہیں
جب تلک دیکھے نہ انساں پیچ و تابِ زندگی
حد انسانی سے جو خارج ہوا اس کے لیے
موت بن سکتی نہیں ہر گز جوابِ زندگی
جب حیات جاودانی موت کے پردے میں ہے
پھر سحر تجھ کو ہے پیارا کیوں یہ خوابِ زندگی
غلام حسین سحر
No comments:
Post a Comment