تباہی سے ہوئی ہے اس قدر دو چار یہ دنیا
بنانے سے نہ بن پائے گی اگلی بار یہ دنیا
مصور نے تو سطح آب سے مٹی اٹھائی تھی
مٹاتی جا رہی ہے اس کے سب شاہکار یہ دنیا
اسے کیا وقت کے اندھے کنویں سے ہم نکالیں گے
نہ جانے کون سی حالت میں ہو اس پار یہ دنیا
زمانے ہو گئے ہیں نفرتیں تقسم کرتی ہے
کبھی تو میرے حصے کا بھی دے دے پیار یہ دنیا
انہی گلیوں میں کوئی کیمیاء گر پھر سے آئے گا
صدائے نور سے ہو جائے گی انوار یہ دنیا
انہی خوش فہمیوں میں کٹ گئی ہے زندگی ساری
کوئی دھوکہ نہیں دے گی مجھے اس بار یہ دنیا
نوید مرزا
No comments:
Post a Comment