Thursday, 8 June 2023

تباہی سے ہوئی ہے اس قدر دو چار یہ دنیا

 تباہی سے ہوئی ہے اس قدر دو چار یہ دنیا

بنانے سے نہ بن پائے گی اگلی بار یہ دنیا

مصور نے تو سطح آب سے مٹی اٹھائی تھی

مٹاتی جا رہی ہے اس کے سب شاہکار یہ دنیا

اسے کیا وقت کے اندھے کنویں سے ہم نکالیں گے

نہ جانے کون سی حالت میں ہو اس پار یہ دنیا

زمانے ہو گئے ہیں نفرتیں تقسم کرتی ہے

کبھی تو میرے حصے کا بھی دے دے پیار یہ دنیا

انہی گلیوں میں کوئی کیمیاء گر پھر سے آئے گا

صدائے نور سے ہو جائے گی انوار یہ دنیا

انہی خوش فہمیوں میں کٹ گئی ہے زندگی ساری

کوئی دھوکہ نہیں دے گی مجھے اس بار یہ دنیا


نوید مرزا

No comments:

Post a Comment