احتساب
مِری اس جاں کے بنکوں میں
اثاثے بے تحاشا ہیں
غموں کی بے پناہ دولت
عجب زخموں کے سکے ہیں
کہیں ہیں محل خوابوں کے
بہت ہی تلخ یادوں کے
خزانے ہی خزانے ہیں
لے نوٹس محتسب کوئی
عدالت عالیہ کوئی
وکیلِ استغاثہ ہو
جرح کے تیر و نشتر ہوں
مِری پیشی پہ پیشی ہو
مجھے ہو قیدِ تنہائی
کہ باہر جا نہ پاؤں میں
کسی سے مل نہ پاؤں میں
دلائل دے نہ پاؤں میں
مقدمہ ہار جاؤں میں
بحقِ سرکار آ خر
ضبط ہو جاۓ مِرا سب کچھ
ہو میرا احتساب ایسے
تہی دامان ہو جاؤں
شائستہ الیاس
No comments:
Post a Comment