Saturday, 5 September 2020

ممکن نہیں جواب ملیں اب سوال کے

ممکن نہیں جواب ملیں اب سوال کے
دھاگے الجھ رہے ہیں ابھی تو خیال کے
ناکام خواہشات میں تکلیف کے سوا
ملنا ہی کیا تھا اورجو رکھتے سنبھال کے
دل میں کوئی خلش ہے نہ چہرے پہ رنج ہے
رکھنا ہے اب ملال کو جی سے نکال کے
تازہ نہ وار کر کہ ابھی جاں بلب ہوں میں
بھرنے دے زخم پچھلے مِرے ماہ و سال کے
ماہر بھی ہے، کمال وہ شاطر بھی خوب ہے
چلنی ہے چال ہم کو بہت دیکھ بھال کے
دینا نہیں ہے ساتھ اگر حوصلہ تو دے
اک معرکے پہ ہوں میں عروج و زوال کے

شائستہ الیاس

No comments:

Post a Comment