ممکن نہیں جواب ملیں اب سوال کے
دھاگے الجھ رہے ہیں ابھی تو خیال کے
ناکام خواہشات میں تکلیف کے سوا
ملنا ہی کیا تھا اورجو رکھتے سنبھال کے
دل میں کوئی خلش ہے نہ چہرے پہ رنج ہے
تازہ نہ وار کر کہ ابھی جاں بلب ہوں میں
بھرنے دے زخم پچھلے مِرے ماہ و سال کے
ماہر بھی ہے، کمال وہ شاطر بھی خوب ہے
چلنی ہے چال ہم کو بہت دیکھ بھال کے
دینا نہیں ہے ساتھ اگر حوصلہ تو دے
اک معرکے پہ ہوں میں عروج و زوال کے
شائستہ الیاس
No comments:
Post a Comment