مرشد ہمارے دل میں عقیدت نہیں رہی
مرشد ہمیں کسی سے محبت نہیں رہی
مرشد محاذِ عشق سے زندہ نکل گئے
مرشد اب عاشقوں میں جسارت نہیں رہی
مرشد ہمارے زخم تو آہوں سے بھر گئے
مرشد اداسیاں تو سمیٹی رہیں، مگر
مرشد خموشیوں پہ مہارت نہیں رہی
انصاف کب ملے گا ہمیں یہ بتائیے
مرشد عدالتوں میں صداقت نہیں رہی
مرشد یہ کہہ کے دل کو دلاسہ دیا ہے آج
مرشد ہمیں بھی اس کی ضرورت نہیں رہی
مرشد اسی کی یاد میں بہتے ہیں روز و شب
مرشد اب آنسوؤں میں ندامت نہیں رہی
مرشد میں جانتا ہوں دکھاوے کا میل ہے
مرشد میں جانتا ہوں رفاقت نہیں رہی
حمزه نقوی
No comments:
Post a Comment