منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی
دیکھ لی اے حور طلعت دیکھ لی
شکل بدلی اور صورت ہو گئی
اک نظر جس نے وہ صورت دیکھ لی
ایک بت سجدہ نہیں کرتا تجھے
ہے عیاں حالِ سگِ اصحابِ کہف
جانور کی آدمیت دیکھ لی
چار دن بھی تو نہ تم سے نبھ سکی
آپ کی صاحب سلامت دیکھ لی
جانتے تھے ہم نہ ایذا ہجر کی
وہ بھی صاحب کی بدولت دیکھ لی
گھورتے ہیں اب نگاہِ قہر سے
چار دن چشمِ عنایت دیکھ لی
کیوں اجل اب زہر پسواتا ہوں میں
راہ تیری ایک مدت دیکھ لی
کھل گئی بندے پہ قدر و منزلت
تھی جو صاحب کی حقیقت دیکھ لی
جا کے گھر جھوٹوں نہ پوچھی بات تک
بس تِری جھوٹی محبت دیکھ لی
اس سے کہہ عادت سے جو واقف نہ ہو
دیکھ لی خُو تیری خصلت دیکھ لی
بحرِ ہستی میں فقط مثلِ حباب
ہے مجھے اک دم کی مہلت دیکھ لی
آپ حیراں ہو گا اپنے حسن کا
آئینہ میں گر وہ صورت دیکھ لی
چاندنی راتوں میں چِلاتا پھرا
چاند سی جس نے وہ صورت دیکھ لی
پھر وہی ہے بوریا اور اپنا فقر
چار دن کی جاہ و حشمت دیکھ لی
کیوں چراتا ہے وہ کافر مجھ سے آنکھ
کیا نگاہِ چشمِ حسرت دیکھ لی
یاد آیا رؔند وہ پیماں شکن
گر کہیں باہم محبت دیکھ لی
رند لکھنوی
No comments:
Post a Comment