کہو لوگو
محبت کی کہانی سے نکلنے کے لیے
بس حوصلہ درکار ہوتا ہے؟
یا پھر
کوئی بہانہ بھی سبھی گزری ہوئی باتوں کو یکسر بھول کر
لمبی رفاقت کا تسلسل توڑ سکتا ہے
اگر کوئی بہانہ
ایک پَل میں سارے بندھن توڑ سکتا ہے
تو پھر کوئی بتاۓ
باہمی احساس کیا ہے؟
زندگی تنہا بسر کیونکر نہیں ہوتی؟
ہمیں کیوں ایک دوجے کی کمی محسوس ہوتی ہے ؟
یقیں کی سلطنت میں بے یقینی کا تسلط کس لیے ہے؟
کس لیے یہ سلطنت محکم نہیں ہوتی ؟
انا پرور بہانہ جُو محبت کا لبادہ اوڑھ کر
کیوں خوشبوؤں کی سلطنت تاراج کرتے ہیں؟
محبت تو ازل کی لوح پہ لکھی ہوئی ایسی کہانی ہے
جسے ہر حال میں ہر عہد میں دھرایا جانا ہے
فرشتوں سے الگ کوئی تخصص نسلِ انسانی کا گر ہے تو
محبت ہے
کہو لوگو
محبت سے مفر کیسا؟
یوسف خالد
No comments:
Post a Comment