Saturday, 5 September 2020

لمبی مسافت سے تھکے ہارے مسافر کو کہیں آرام مل جائے

یہ ممکن ہے
کہ اک لمبی مسافت سے
تھکے ہارے مسافر کو
کہیں آرام مل جائے
کوئی خوشبو کا جھونکا
روح کے پاتال میں اترے
اسے سرشار کر دے
آرزو کا بیج بو جائے
کوئی بادل
کسی پیاسی زمیں پر ٹوٹ کر برسے
کسی خواہش کے پھیلے بازوؤں میں
شام سے پہلے
کوئی آ کر سمٹ جائے
یہ ممکن ہے

یوسف خالد

No comments:

Post a Comment