آنکھوں کے منظروں پہ نگیں چھوڑ آئی ہوں
کچھ خواب اپنے زیرِ زمیں چھوڑ آئی ہوں
رہتا ہے کیسے دیکھنا اب کشمکش میں وہ
میں بندگی کا اس میں یقیں چھوڑ آئی ہوں
ڈھونڈے گا مدتوں مجھے وہ اپنے آپ میں
وہ بھی پلٹ پلٹ کر دیکھے گا اب مجھے
سب راستوں میں اپنا نشاں چھوڑ آئی ہوں
ٹوٹے گا ہر سوال پہ، بکھرے گا ہر جواب
باتوں میں اس کی ایک نہیں چھوڑ آئی ہوں
میرے کیے کا دے گا وہ ہر ایک کو جواب
بولے گا اب وہ میری زباں، چھوڑ آئی ہوں
شائستہ الیاس
No comments:
Post a Comment