کھو دئیے ہیں چاند کتنے اک ستارا مانگ کر
مطمئن ہیں کس قدر پھر بھی خسارا مانگ کر
موج کے ہمراہ تھا، تو سارا دریا ساتھ تھا
ہو گیا غرقاب لہروں سے کنارا مانگ کر
راکھ میں اب ڈھونڈھتا ہوں میں در و دیوار کو
تیری مرضی ہو تو بھر کشکول دل خالی مرا
میں نہیں لوں گا تجھے تجھ سے دوبارہ مانگ کر
اپنے پاؤں پر چلوں گا، میں اپاہج تو نہیں
راستے کٹتے نہیں ہیں یوں سہارا مانگ کر
خواب کی مٹی کو گوندھوں گا لہو سے میں فگار
گھر بنانا ہی نہیں دھرتی سے گارا مانگ کر
سلیم فگار
No comments:
Post a Comment