Monday, 7 September 2020

کھو دئیے ہیں چاند کتنے اک ستارا مانگ کر

کھو دئیے ہیں چاند کتنے اک ستارا مانگ کر
مطمئن ہیں کس قدر پھر بھی خسارا مانگ کر 
موج کے ہمراہ تھا، تو سارا دریا ساتھ تھا 
ہو گیا غرقاب لہروں سے کنارا مانگ کر
راکھ میں اب ڈھونڈھتا ہوں میں در و دیوار کو 
گھر دیا ہے آگ کو میں نے شرارا مانگ کر
تیری مرضی ہو تو بھر کشکول دل خالی مرا
میں نہیں لوں گا تجھے تجھ سے دوبارہ مانگ کر
اپنے پاؤں پر چلوں گا، میں اپاہج تو نہیں
راستے کٹتے نہیں ہیں یوں سہارا مانگ کر
خواب  کی مٹی کو گوندھوں گا لہو سے میں فگار
گھر بنانا ہی نہیں دھرتی سے گارا مانگ کر

سلیم فگار

No comments:

Post a Comment