Monday, 7 September 2020

کل رات بہت شور تھا ساحل کی ہوا میں

کل رات بہت شور تھا ساحل کی ہوا میں
کچھ اور ابھر آئیں سمندر سے چٹانیں
اک فصل اگی جوںہی زمانے پہ سروں کی
ترکش سے گرے تیر فصیلوں سے کمانیں
محسوس ہوا ایسے کہ چپ چاپ ہیں سب لوگ
جب غور کیا ہم نے تو خالی تھیں نیامیں
تم حبس کے موسم کو ذرا اور بڑھا لو
بے سمت نہ ہو جائیں پرندوں کی اڑانیں
کیوں ہونٹ پہ دریوزہ گر صوت و صدا ہیں
جو آہٹیں بدنام ہوئیں دستِ دعا میں

زاہد مسعود

No comments:

Post a Comment