کل رات بہت شور تھا ساحل کی ہوا میں
کچھ اور ابھر آئیں سمندر سے چٹانیں
اک فصل اگی جوںہی زمانے پہ سروں کی
ترکش سے گرے تیر فصیلوں سے کمانیں
محسوس ہوا ایسے کہ چپ چاپ ہیں سب لوگ
تم حبس کے موسم کو ذرا اور بڑھا لو
بے سمت نہ ہو جائیں پرندوں کی اڑانیں
کیوں ہونٹ پہ دریوزہ گر صوت و صدا ہیں
جو آہٹیں بدنام ہوئیں دستِ دعا میں
زاہد مسعود
No comments:
Post a Comment