ہریالی اور نیل گگن
ناچ مِرے متوالے من
نیل آکاش میں کوئیلیا
لہری، من موجی، بِرہن
پھولوں کو چھب دکھلاتی
اپنی خبر پائے، نہ سگندھ
ایسے نچاۓ اس کو پون
تپتی تڑپتی دھوپ آئی
اوس نثار کرے جیون
کاجل کاجل شام کی آنکھ
سورج وارے کرن کرن
راج تِلک سے بھاگے آج
رام کا جی برمائے بن
پیار کی اگنی روپ بھسم
پیتم کو تاکے سوکن
مجھ بھولے سے بولا کون
ایک پہیلی لاکھ الجھن
یہ غم سے آزاد غزل
امریکہ کے نام ارپن
عازم روپ اپنا پہچان
یہ دن، یہ دھُن یہ دھڑکن
مظفر عازم
No comments:
Post a Comment