اذان
ہوا
تِرا فرضِ منصبی ہے
کہ شاخساروں سے
پیلے پتوں کا بوجھ اتارے
مگر
یہ اجڑے چمن
تو ساکت شہادتیں
اک شہامتِ نا تراش کی ہیں
نہ بھول
تیرا حساب ہو گا
اور، ہاں
ترازو کے ایک پلڑے میں
ایک شاعر کا خواب ہو گا
مظفر عازم
No comments:
Post a Comment