Monday, 7 September 2020

جی میں ہے پھر گلاب کو چھو لیں

جی میں ہے پھر گلاب کو چھو لیں
یعنی اس کے شباب کو چھو لیں
ایک سیڑھی لگائیں لمبی سی
اور پھر ماہتاب کو چھو لیں
وصل کا انتظار، اف توبہ
کیوں نہ تعبیرِ خواب کو چھو لیں
ان لبوں سے نہیں تو آنکھوں سے
تیرے پیاسے شراب کو چھو لیں
عاصیوں کے لیے یہی ہے بہت
کوئی کارِ ثواب کو چھو لیں
برف ہو کر تمہاری چاہت میں
گرمیٔ آفتاب کو چھو لیں
اک حقیقت سمجھ کے ہم رضیہ
جب بھی چاہیں سراب کو چھو لیں

رضیہ سبحان

No comments:

Post a Comment