جی میں ہے پھر گلاب کو چھو لیں
یعنی اس کے شباب کو چھو لیں
ایک سیڑھی لگائیں لمبی سی
اور پھر ماہتاب کو چھو لیں
وصل کا انتظار، اف توبہ
ان لبوں سے نہیں تو آنکھوں سے
تیرے پیاسے شراب کو چھو لیں
عاصیوں کے لیے یہی ہے بہت
کوئی کارِ ثواب کو چھو لیں
برف ہو کر تمہاری چاہت میں
گرمیٔ آفتاب کو چھو لیں
اک حقیقت سمجھ کے ہم رضیہ
جب بھی چاہیں سراب کو چھو لیں
رضیہ سبحان
No comments:
Post a Comment