Monday, 7 September 2020

دشت ہجراں سے محبت کو نبھاتے ہوئے ہم

دشتِ ہجراں سے محبت کو نبھاتے ہوئے ہم
خاک ہوتے ہیں میاں، خاک اڑاتے ہوئے ہم
اک عجب عالمِ حیرت میں چلے جاتے ہیں
تیری آواز میں آواز ملاتے ہوئے ہم
صورتِ حال کو رنجور بنانے والے
کیسے لگتے ہیں تجھے رنج مناتے ہوئے ہم
صاحبِ کشف پرندوں کی کہانی کہہ کر
سو گئے آپ درختوں کو سلاتے ہوئے ہم
یاد ہے تجھ کو مِری روح میں بستے ہوئے شخص
کتنا ہنستے تھے سدا باغ کو جاتے ہوئے ہم

مبشر سعید

No comments:

Post a Comment