وفا کی تشہیر کرنے والا فریب گر ہے ستم تو یہ ہے
نگاہِ یاراں میں پھر بھی وہ شخص معتبر ہے ستم تو یہ ہے
ہم ایسے سادہ دلوں کو تجھ سے ملے گی دادِ خلوص کیسے
زمانہ سازی کی خُو تِرے عہد میں ہنر ہے ستم تو یہ ہے
اگر تجھے علم ہی نہ ہوتا تو پھر کبھی ہم گِلہ نہ کرتے
کرشمۂ حسن دامنِ دل کو کھینچتا ہے قدم قدم پر
ستائشِ خال و خد کی میعاد مختصر ہے ستم تو یہ ہے
کھلا ہے بابِ قفس تو اس پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں
ملی ہے جس کو رہائی محرومِ بال و پر ہے ستم تو یہ ہے
گلزار بخاری
No comments:
Post a Comment