بھلا چکا ہوں مگر تجھ سے پیار کرتا ہوں
تُو بے وفا ہے تو کیوں کیوں انتظار کرتا ہوں
تِری تلاش میں جاتا ہوں میں بھی صحرا ہوں
یہ راہ تیرے لیے اختیار کرتا ہوں
تِرے ہی نام کو لکھتا ہوں ریگِ ساحل پر
یہ کام کرتا ہوں اور بار بار کرتا ہوں
چھپا کے رکھا تھا جو راز میں نے ایک مدت سے
وہ سب کے سامنے اب آشکار کرتا ہوں
میں کس کی یاد میں راتوں کو جاگتا ہوں زمان
میں کس کی یاد میں تارے شمار کرتا ہوں
زمان کنجاہی
No comments:
Post a Comment