Monday, 7 September 2020

پیڑ پرندے شام صدائیں بستی کی

پیڑ، پرندے، شام، صدائیں بستی کی
بھُولے بِسرے خواب، فضائیں بستی کی
جی مہکاتی، کھیتوں، کھلیانوں کی باس
سپنا سپنا کھیل،۔ ہوائیں، بستی کی
پچھم سمت کو پنچھی جاتے شام ڈھلے
اب تو اکثر یاد دلائیں بستی کی
اب تو ان کے قصے ختم نہیں ہوتے
ہمیں ملیں جب بوڑھی مائیں بستی کی
ہم بے خوف پھریں شہروں صحراؤں میں
اپنے ساتھ ہیں نیک دعائیں بستی کی
پھیلا دیکھیں دل میں ایک اجالا سا
آنکھوں میں جب یاد جگائیں بستی کی
مولا، سونا فصلیں اس کے دامن میں
ربا، ساری دور بلائیں بستی کی
مالک، ان کی جھولی بھر دے خوشیوں سے
وہ جو آ کر خیر سنائیں بستی کی
حبسِ شہر سے جنہیں نجات کی خواہش ہے
رزمی ان کو راہ دکھائیں بستی کی

خادم رزمی

No comments:

Post a Comment