رنج ہمیں کیونکر اب ہو گا جھوٹوں کی رسوائی کا
ساحل سے کچھ ربط نہیں ہے دریا کی گہرائی کا
بچپن کی کچھ یادوں کو دیواروں میں مت دفناؤ
لے لو میرے بھائی! سارا حصہ تم انگنائی کا
کھیل نہ سمجھو تنہا رہنا عشق کرو تب جانو گے
صدیوں سے بھاری لگتا ہے اک لمحہ تنہائی کا
کون سنے گا پریم کہانی، کون سنے گا افسانہ
لکھنا ہے تو آؤ لکھیں نوحہ اس مہنگائی کا
اونچی عمارت میں بنوا کر بھی نیند تمہیں کب آتی
فرض نبھانا بھول گئے ہو شاید تم اک بھائی کا
اپنی مریاداؤں کی مت صاحب! گرما پار کرو
مانا میں نے تیرا اس سے رشتہ ہے بھوجائی کا
ہنستے ہوئے کیسے یہ وداعی غیروں کی اب دیکھیں گے
ہم بھی لیے پھرتے ہیں دل میں درد کسی شہنائی کا
اپنی حد میں رہنا پہلے سیکھ لے دل درویشوں سے
پربت سے کیا الجھے گا تو دانا ہے اک رائی کا
دل سکندر پوری
No comments:
Post a Comment