اٹھا اے مطربہ اپنا رباب آہست آہستہ
ابھرنے دے یمِ دل میں حباب آہستہ آہستہ
مِرا دل جو کبھی رنگیں تمنّاؤں کا مسکن تھا
ہوا جاتا ہے اب خانہ خراب آہستہ آہستہ
محبت در حقیقت ایک ایسی موجِ دریا ہے
جو بڑھتی ہے بشکلِ اضطراب آہستہ آہستہ
خزاں آنے سے یہ اہلِ چمن اندوہگیں کیوں ہیں
عروسِ گل بھی ہو گی بے نقاب آہستہ آہستہ
کرے میری بلا ساقی کی منت جب کہ وہ خود ہی
چلا آتا ہے لے کر جامِ ناب آہستہ آہستہ
مجھے اس طرح یاد آتی ہیں وہ گزری ہوئی باتیں
کہ جیسے آتے ہوں رنگین خواب آہستہ آہستہ
نہ ہو کیوں رونق انجم محملِ گردوں میں آتا ہے
ضیائیں اپنی لے کر ماہتاب آہستہ آہستہ
کرم آمادہ ہے چشمِ عتاب آلودہ آج ان کی
دعائیں ہو رہی ہیں مستجاب آہستہ آہستہ
عبیدہ انجم
No comments:
Post a Comment