Friday, 6 August 2021

حد سے آگے ہم گزرنے کے لیے تیار ہیں

 حد سے آگے ہم گزرنے کے لیے تیار ہیں

زندگی بس کہہ دے مرنے کے لیے تیار ہیں 

میرے سورج کو کسی نے کر دیا ہے قتل کیا

سب اندھیرے مجھ کو ڈسنے کے لیے تیار ہیں 

کوئی ہم سے بھی محبت آج کر کے دیکھ لے 

آنکھ میں اشکوں کو بھرنے کے لیے تیار ہیں 

خواہشوں کی روز قبریں کھودتے پھرتے ہیں ہم 

خود کو قاتل ہم بھی کہنے کے لیے تیار ہیں 

چند قطرہ بس چراغوں کو لہو کیا دے دیا

آندھیوں سے جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں 

پتھروں سے جا کے کہہ دو اتنے مت غمگین ہوں

ہم تِری بستی میں رہنے کے لیے تیار ہیں 

آیتیں پڑھنے سے گھبرانے لگے ہو آج دل 

شام کا اخبار پڑھنے کے لیے تیار ہیں


دل سکندر پوری

No comments:

Post a Comment