حد سے آگے ہم گزرنے کے لیے تیار ہیں
زندگی بس کہہ دے مرنے کے لیے تیار ہیں
میرے سورج کو کسی نے کر دیا ہے قتل کیا
سب اندھیرے مجھ کو ڈسنے کے لیے تیار ہیں
کوئی ہم سے بھی محبت آج کر کے دیکھ لے
آنکھ میں اشکوں کو بھرنے کے لیے تیار ہیں
خواہشوں کی روز قبریں کھودتے پھرتے ہیں ہم
خود کو قاتل ہم بھی کہنے کے لیے تیار ہیں
چند قطرہ بس چراغوں کو لہو کیا دے دیا
آندھیوں سے جنگ لڑنے کے لیے تیار ہیں
پتھروں سے جا کے کہہ دو اتنے مت غمگین ہوں
ہم تِری بستی میں رہنے کے لیے تیار ہیں
آیتیں پڑھنے سے گھبرانے لگے ہو آج دل
شام کا اخبار پڑھنے کے لیے تیار ہیں
دل سکندر پوری
No comments:
Post a Comment