Friday, 6 August 2021

مرے خوش نظر وقت کب مہربان ہوتا ہے

 مِرے خوش نظر

وقت کب مہربان ہوتا ہے

ہمیں بھاگتے دوڑتے پھسلتے لمحوں

میں سے

ہاتھ بڑھا کر

زنجیر کھینچنی پڑتی ہے

کسی نامانوس سٹیشن پہ

کسی اجنبی سے دل کی باتیں کرنا

سچے قہقہے اور سُچے آنسو رونا

کبھی کبھی برسوں کی رفاقت

اور خاموش پژمُردہ منزل سے

زیادہ روح میں بس جاتا ہے

بس وہی سچ ہے

جو لمحہ جی لیا دل سے

تو کیا کہتے ہو تم؟


ثانیہ شیخ

No comments:

Post a Comment