سبق کتاب کا پکا نہیں کیا میں نے
ابھی سمجھنا ہے جیون کا فلسفہ میں نے
بجھائی پیاس نہیں بس نہا لیا میں نے
لیا ہے کام سمندر سے دوسرا میں نے
بھلا وہ آنکھوں سے غم کا پتا لگائے گا کیا
پہن لیا ہے یہ چشمہ جو دھوپ کا میں نے
کسی مزار پہ منت سے اس کو پایا ہے
کہ ایک دھاگے سے کھینچا ہے دائرہ میں نے
مثالیں دیتے تھے استاد، میں سمجھتا نہ تھا
پھر اس کے کہنے سے سمجھا تھا زاویہ میں نے
نشست ہے نہیں کہہ کر کئی بسیں چھوڑیں
تجھے بچانے میں کتنوں کو کھو دیا میں نے
صابر آفاق
No comments:
Post a Comment