Friday, 6 August 2021

تجھے بچانے میں کتنوں کو کھو دیا میں نے

 سبق کتاب کا پکا نہیں کیا میں نے

ابھی سمجھنا ہے جیون کا فلسفہ میں نے

بجھائی پیاس نہیں بس نہا لیا میں نے

لیا ہے کام سمندر سے دوسرا میں نے

بھلا وہ آنکھوں سے غم کا پتا لگائے گا کیا

پہن لیا ہے یہ چشمہ جو دھوپ کا میں نے

کسی مزار پہ منت سے اس کو پایا ہے

کہ ایک دھاگے سے کھینچا ہے دائرہ میں نے

مثالیں دیتے تھے استاد، میں سمجھتا نہ تھا

پھر اس کے کہنے سے سمجھا تھا زاویہ میں نے

نشست ہے نہیں کہہ کر کئی بسیں چھوڑیں

تجھے بچانے میں کتنوں کو کھو دیا میں نے


صابر آفاق

No comments:

Post a Comment