Friday, 6 August 2021

دریا سے پیاسوں کا جھگڑا صحرا سے خیمے لڑتے ہیں

رزمیہ کلام


 آزادی کی جنگ تمہیں معلوم ہے ہم کیسے لڑتے ہیں

پیچھے مائیں صف بستہ ہیں اور آگے بیٹے لڑتے ہیں

اپنی کثرت کے نشے میں تم تو یہ بھی بھول گئے

ہتھیاروں اور لشکر کی تعداد نہیں جذبے لڑتے ہیں

ہم جب چاہیں ماضی کی تاریخ کو حال بنا دیتے ہیں

دیکھ سرداروں سے لڑکے لشکر سے بچے لڑتے ہیں

خوابوں کی تقسیم سے تعبیریں تقسیم نہیں ہو جاتیں

آج بھی اک منزل کی خاطر آپس میں رستے لڑتے ہیں

مٹی اور لہو کی خوشبو کب تک قید میں رکھ سکتے ہو

دریا سے پیاسوں کا جھگڑا صحرا سے خیمے لڑتے ہیں 


سلیم کوثر

No comments:

Post a Comment