رزمیہ کلام
آزادی کی جنگ تمہیں معلوم ہے ہم کیسے لڑتے ہیں
پیچھے مائیں صف بستہ ہیں اور آگے بیٹے لڑتے ہیں
اپنی کثرت کے نشے میں تم تو یہ بھی بھول گئے
ہتھیاروں اور لشکر کی تعداد نہیں جذبے لڑتے ہیں
ہم جب چاہیں ماضی کی تاریخ کو حال بنا دیتے ہیں
دیکھ سرداروں سے لڑکے لشکر سے بچے لڑتے ہیں
خوابوں کی تقسیم سے تعبیریں تقسیم نہیں ہو جاتیں
آج بھی اک منزل کی خاطر آپس میں رستے لڑتے ہیں
مٹی اور لہو کی خوشبو کب تک قید میں رکھ سکتے ہو
دریا سے پیاسوں کا جھگڑا صحرا سے خیمے لڑتے ہیں
سلیم کوثر
No comments:
Post a Comment