دعائیہ غزل
سب ہی کے گھر بسے رہیں سب کے مکاں کی خیر ہو
آ مِرے دل! دعا کریں، سارے جہاں کی خیر ہو
جانے میں تجھ سے کیا کہوں، جانے تُو خود سے کیا لکھے
تیری لِکھت کے درمیاں میرے بیاں کی خیر ہو
مژدۂ نو بہار میں، موسمِ زرنگار میں
حُسنِ وصال ہو کہ ہجر، امن و اماں کی خیر ہو
گزرے ہوئے دنوں کا حبس پھیل رہا ہے چار سُو
اب جو نئی ہوا چلے سالِ رواں کی خیر ہو
سلیم کوثر
No comments:
Post a Comment