Saturday, 8 January 2022

کبھی صحرا کبھی طوفانی منظر رقص کرتے ہیں

 کبھی صحرا کبھی طوفانی منظر رقص کرتے ہیں 

مِری آنکھوں کے قطروں میں سمندر رقص کرتے  ہیں

جن آنکھوں میں کبھی ہم دیکھتے تھے اپنے چہرے کو 

انہیں آنکھوں میں اب دیکھا ہے خنجر رقص کرتے ہیں

تمہارے بن کبھی کانٹے کبھی تلوار بنتے ہیں 

تمہارے ساتھ ہوتے ہیں تو بستر رقص کرتے ہیں 

تمہارے پاؤں کی ٹھوکر سے بستی ہو گئی صحرا 

تمہارے پاؤں کے بوسوں سے پتھر رقص کرتے ہیں

 درو دیوار کرتے ہیں تمہارے ہجر کا ماتم

تمہاری یاد کے چھت پر کبوتر رقص کرتے ہیں 

محبت کے ستائے دل یہاں جو لوگ زندہ ہیں 

ادب کے شہر میں  بن کر سخنور رقص کرتے ہیں


دل سکندر پوری

No comments:

Post a Comment