بُرے رہنماؤں کا تم کیا کرو گے
زمینی خداؤں کا تم کیا کرو گے
وہ ماں بھی نہیں ہے کہ مانگے دعائیں
پڑی سر بلاؤں کا تم کیا کرو گے
سمندر نہ کشتی نہ اُس پار کوئی
تو ان نا خداؤں کا تم کیا کرو گے
مسلسل یہ اک سمت چلتی رہیں گی
تو ظالم ہواؤں کا تم کیا کرو گے
وہ ملتا ہے جب کو بہ کو قریہ قریہ
پھر اِن دیوتاؤں کا تم کیا کرو گے
پڑی جب بھی مشکل نہیں کام آیا
تو اس کی وفاؤں کا تم کیا کرو گے
مداوا نہیں کر سکو گے، نہ پوچھو
کہ میری سزاؤں کا تم کیا کرو گے
بچھڑتے ہوئے روکنا چاہیۓ تھا
اٹھی اب صداؤں کا تم کیا کرو گے
ہے گلشن میں بلبل نہ جگنو نہ چڑیا
تو سہمی فضاؤں کا تم کیا کرو گے
جو کرنے لگے ہو حسابِ محبت
پھر اپنی جفاؤں کا تم کیا کرو گے
ہمیں جب طلب تھی تو برسی نہیں ہیں
عجیب ان گھٹاؤں کا تم کیا کرو گے
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment