Saturday, 19 June 2021

کہاں تیور ہیں ان میں اب وہ کل کے

کہاں تیور ہیں ان میں اب وہ کل کے

ہوا چلنے لگی ہے رخ بدل کے

جدائی کی گھڑی ہے دشمن دل

بلا ہے یہ نہیں ٹلتی ہے ٹل کے

ادا ان کی مزہ دیتی ہے ہم کو

مزہ آتا ہے ان کو دل مسل کے

پہیلی بن کے وہ اوجھل ہوا ہے

کئے ہیں بند در سب اس نے جل کے

وفا کے پھول تب سمجھو کھلیں گے

جو آئے گا کوئی کانٹوں پہ چل کے

وہ کر دیتے ہیں نا ممکن کو ممکن

مِری آغوش میں اکثر مچل کے

نظر کے تیر نازک ہیں تمہارے

جبھی پر لطف ہیں یہ وار ہلکے

سہیلؔ اس دل کی حالت اور محبت

بہا آنکھوں سے وہ پتھر پگھل کے


سہیل کاکوروی

No comments:

Post a Comment