Saturday, 19 June 2021

نفرتوں کے ڈر سے محبت نہ چھوڑ دینا

 نفرتوں کے ڈر سے محبت نہ چھوڑ دینا

آنسوؤں کے ڈر سے ہنسنا نہ چھوڑ دینا

چاہتوں کے راستوں میں ہوتی ہے ہار بھی

کانٹوں کے ڈر سے تم چلنا نہ چھوڑ دینا

جینا مشکل تو ہے ان ظالموں کے شہر میں

مرنے کے ڈر سے تم جینا نہ چھوڑ دینا

ملنے سے پہلے بچھڑنے کا خوف بھی ہو گا

بچھٹرنے کے ڈر سے تم ملنا نہ چھوڑ دینا


مسرت جبین زیبا

No comments:

Post a Comment